حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، محمد علی سوادی کی تألیف "بنیادهای علوم انسانی اسلامی از دیدگاه آیتالله جوادی آملی" منتشر ہو کر منظر عام پر آ گئی ہے۔
واضح ہے کہ علوم انسانی اسلامی کے تمام شعبوں کی وضاحت کے لیے قرآن مجید سب سے زیادہ غنی اور بنیادی ماخذ کے طور پر ہے مثلاً تاریخ کی سنتوں اور ان سنتوں کی فلسفیانہ بنیادوں کی پہچان کے لیے تاریخ شناسی کا موضوع، انبیاء کے حالات زندگی اور قرآنی قصص وغیرہ راہنما ماخذ ہیں کیونکہ قرآن کریم کے تمام قصے عین خارجی واقعات ہیں جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی ہوئے ہیں اور یہ معرفت و تربیت کے آئین اور کلی اصولوں کی حیثیت رکھتے ہیں: «وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللّهِ قِیلاً» اور خدا سے زیاده سچا کون ہے؟ (سورہ نساء: ۱۲۲)، «فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلاَّ الضَّلاَلُ» پس حق کے بعد گمراہی کے سوا کیا ہے؟ (سورہ یونس: ۳۲)، «قَوْلُهُ الْحَقُّ» اس کا قول ہی حق ہے۔ (سورہ انعام: ۷۳)۔
قرآن کریم کے قصوں میں سنت الٰہی اور حکمت الٰہی کا اظہار یعنی فلسفۂ تاریخ موجزن ہے اور قرآن کے قصص کی خوبصورتی جسے "احسن القَصَص "کہا گیا ہے، اسی عظیم نکتہ میں پنہاں ہے۔
کتاب کی خریداری یا مزید معلومات کے لیے انتشارات پژوهشگاه کی آفیشل ویب سائٹ www.poiict.ir پر رجوع کر سکتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ